ابنا: رواں سال میں اب تک افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں اسی وجہ سے نیٹو افواج نے افغان فوجیوں کے ساتھ مشترکہ گشت کرنا کم کردیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکہ 2014ء کے آخر تک افغانستان سے اپنی بیشتر لڑاکا فوج واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں غیر ملکی فوجیوں کی افغان باغی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغان حکومت اور اس کی افواج آئندہ دو سال میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں گی۔ اس حملے میں نیٹو کا ایک نجی کانٹریکٹر اور دو افغان فوجی بھی مارے گئے۔ بروکنگز انسٹیٹیو کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 40.2 فیصد ہلاکتیں خود ساختہ بموں کی وجہ سے ہوئی ہیں جبکہ 30.6 فیصد دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔
آئی کیژوئلٹیز نامی ایک آزاد تنظیم کے مطابق افغانستان میں اب تک اس کے علاوہ 1،0190 اتحادی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔ عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل ہے۔ 2007ء سے گذشتہ اگست تک عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 13،431 تھی۔ اگر 2001ء کے امریکی حملے سے شمار کیا جائے تو یہ تعداد 20،000کے لگ بھگ مانی جاتی ہے۔ 2000 امریکی فوجیوں کی ہلاکت خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی شائع کردہ اطلاعات کے مطابق ہے جو افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں ہی کو اس گنتی میں شامل کرتی ہے۔ کچھ دیگر ادارے ایسے افراد کو بھی گنتی میں شامل کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں، مگر صدر جارج بش کے شروع کیے ہوئے آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے سلسلے میں ہی ہلاک ہوئے۔ 2001ء ایک افغانستان پر کیے جانے والے امریکی حملے کا مقصد 11 ستمبر 2001ء کو ہونے والے واقعات کے بعد القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانا تھا۔ 11 ستمبر کے حملوں میں تقریباً تین ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
.....
/169